← شوقِ فراواں
یہ جہاں کیا ہے فقَط نُورِ خُدا ہے اس میں
بلبلہ کچھ بھی نہیں آب و ہوا ہے اس میں
سارے عالَم میں مدینے کی نہیں کوئی نَظِیر
روضہ اَنوارِ محبوبِ خُدا ہے اس میں
کیوں لٹھائے⚠️ نہ ہر اِک آنکھ کو سرخیٔ گُل کی
منعکسؔ⚠️ آپؐ کا رنگِ رِدا ہے اس میں
خوب دِل کش ہے رَمِ باد صبا گُلشن میں
کیا غزال⚠️ حرم حق کی ادا ہے اس میں
بزمِ جو نُور و پَیمبرؐ سے ہوئی روشن
گِری⚠️ دِلوں و قلمِ ارض و سما ہے اس میں
یہ فوا⚠️ پہنچی ہے جو عرش بَریں تک سیدھی
اُن کے عشاق کا آہ و آ ہے اس میں
آج اس بزم میں ساجدؔ ہے فزودوں سرشاری
طُوطئی⚠️ باغِ نبیؐ نغمہ سرا ہے اس میں