شوقِ فراواں
1

شبانہ روز شِعرِؐ دیں کا نام لیتے ہیں

ہم اُن کے ہاتھ سے دولت مُدام لیتے ہیں

2

بدلے کو رُخِ نُورِ⚠️ اُنؐ کے ابرو کے اشارے سے

اشارہ اُن کو کہتے ہیں اور ابرو اس کو لیتے ہیں

3

رہے گرم رمضان کی رات دِن اُن کے نام کی

وہ نامِ غیر ہونٹوں پر کہاں لیتے ہیں

4

نِگاہِ لُطف سے کرتے ہیں شاد کام ہمیں

حضورِ دِل کی خبر صبح و شام لیتے ہیں

5

پکارتے ہیں خُدا کے نبیؐ کو مشکل میں

پناہ اُنؐ کی ہیں اُن کے غلام لیتے ہیں

6

ذرا بھی پاؤں میں رہ زِندگی میں گر بھٹکے

قسمِ خُدا کی ہمیں آپؐ تھام لیتے ہیں

7

انہیؐ کے سینہ سے لیتے ہیں نُورِ تقوٰی کا

انہیؐ کے ہاتھ سے عِرفانِ جام لیتے ہیں

8

نبیؐ تو اب بھی نبیؐ ہی دو جہاں والے

وہ ساؔجِد اب بھی سلام و پَیام لیتے ہیں