شوقِ فراواں

ہے میتھدا⚠️ بھی وہیں جب خبرِ خیر کو دیکھتے ہیں

خُدا کے ساتھ شِعرِؐ نامور کو دیکھتے ہیں

خُدا کی ذات نہیں ذاتِ مصطفیٰؐ سے جُدا

جمالِ حق سے ہم نقشِ گر کو⚠️ دیکھتے ہیں

جہاں سے جس قدر چاہیے قدر ہو ذات بے ہمتا

مَشیّت ہے یہ سب کُس⚠️ اُس کی نہیں ناکس میں بس میں⚠️

نبیؐ کے نُور کا فیضان سب نظر آئے

جونہی کہ ہم خبرِ پاتھر⚠️ کو دیکھتے ہیں

تمام ہے شِعرِؐ عالَم کے اسم کی تاثیر

یہ اہلِ ذِکر جو حسنِ اثر کو دیکھتے ہیں

نظر ہے اُن کی فقَط فاعل حقیقی پر

خُدا کے بندے جو نفعِ و ضرر کو دیکھتے ہیں

رِہ رسُولؐ پہ ساجدؔ جو رات دِن ہے رواں

وہ رہگزار نہ زیر و زبر کو دیکھتے ہیں