← شوقِ فراواں
کہاں وہ لعل و گوہر سیم و زر کو دیکھتے ہیں
رسُولِ پاک کے پاکِ سنگِ در کو دیکھتے ہیں
مُدام اُن کے دِلوں میں ہجومِ مَستی ہے
جو اُن کے رُخِ⚠️ مُبارَک صحرِ⚠️ کو دیکھتے ہیں
ہمیں وہ بھٹکا ہوا راہبر نظر آئے
کسی جو طائر بے بال و پر کو دیکھتے ہیں
یہ دیکھتے ہیں کہ رستہ کدھر ہے جاتا ہے
نہ باغ و وشت⚠️ کو ہم تیر و تر کو دیکھتے ہیں
نِگاہِ حضرتِ دادور⚠️ بھی ہے جو سامنے
اسی⚠️ رسُولؐ کے ہم بام و در کو دیکھتے ہیں
ہے اہلِ دِل کی کسوٹی فقَط نِیاز و گُداز
کہاں کسی کے وہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں
وہ اِک نِگاہ میں ساجدؔ کہا گو شاہ کریں
ذیل⚠️ مرغِ نہ شمسِ و قمر کو دیکھتے ہیں