← شوقِ فراواں
جو اُن کی خاک در کے ذرے روشن جنہیں نکلی
نبیؐ پر جب لگا کوئی صدائے آفریں نکلی
پھرا جو شاہِؐ دیں نے اُس کی فطرت کیس⚠️ گئی
وہ سیرتِ طیب⚠️ خو نفقتی⚠️ تکہ⚠️ نہیں نکلی
نبیؐ کے اس مسافِر کا بڑا مقدار ہے بہت کہ
جس کی مُصطفیٰؐ کے شہر میں جاں حَزیں نکلی
حضورِ حق ذرا بھی شک نہیں اُسکی اجابت میں
فُغاں دُنیا سے جو اُنہیں⚠️ کر سنر⚠️ عرش بَریں نکلی
خُدا نے جو چاہی بات جو لب محبوبؐ پر آئی
نہ چاہی بات جو اللہ نے منہ سے نہیں نکلی
علیؓ نے جب دیا دامَن کسی نے جب مانگا
علیؓ کے اپنے کھانے کو: کو مگر ناں نکلی⚠️
گزاری عمر پاکستان میں ساجدؔ نے تکلف
پا آخر چلا جاں اُس کی طَیَّبہ میں نہیں نکلی⚠️