شوقِ فراواں
1

جو اُن کی خاک در کے ذرے روشن جنہیں نکلی

نبیؐ پر جب لگا کوئی صدائے آفریں نکلی

2

پھرا جو شاہِؐ دیں نے اُس کی فطرت کیس⚠️ گئی

وہ سیرتِ طیب⚠️ خو نفقتی⚠️ تکہ⚠️ نہیں نکلی

3

نبیؐ کے اس مسافِر کا بڑا مقدار ہے بہت کہ

جس کی مُصطفیٰؐ کے شہر میں جاں حَزیں نکلی

4

حضورِ حق ذرا بھی شک نہیں اُسکی اجابت میں

فُغاں دُنیا سے جو اُنہیں⚠️ کر سنر⚠️ عرش بَریں نکلی

5

خُدا نے جو چاہی بات جو لب محبوبؐ پر آئی

نہ چاہی بات جو اللہ نے منہ سے نہیں نکلی

6

علیؓ نے جب دیا دامَن کسی نے جب مانگا

علیؓ کے اپنے کھانے کو: کو مگر ناں نکلی⚠️

7

گزاری عمر پاکستان میں ساؔجِد نے تکلف

پا آخر چلا جاں اُس کی طَیَّبہ میں نہیں نکلی⚠️