جانِ جہاں

جس کو ہے بخشا گیا عِرفانِ رسُول اللہ ﷺ کا

ہے پُرکاہ⚠️ اُس کی آنکھوں میں یہ تحفہ جاہ کا

روضۂ اَنُور کی ہم کو ہو زیارت ہر ہریں⚠️

ہو کرم ہر سال یا رب! طوفِ بیت اللہ کا

آرزوئے دِل مِری ہے خام و ناپختہ ابھی

کچھ اثر میری فُغاں کا ہے نہ کوئی آہ کا

باغ کے ہر پھول میں پڑھ ہے اُن کے حسن کا

مصطفیٰ ﷺ کے نُور سے ہے جلوہ مہر و ماہ کا

سامنے خاتم رُسُل ﷺ کے لوح ہے تقدیر کی

اُن پہ روشن حال ہے ہر اِک گَدا و شاہ کا

حاضری دیتے ہیں جنّ و اِنس و قُدسی رات دِن

شہرہ ہے ارض و سما میں آپ ﷺ کی درگاہ کا

سیّد اس کا حق تعالیٰ کی تجلّی کا اُفق

جس کے دِل میں نُور ہے ساجدؔ نبی ﷺ کی چاہ کا