شوقِ فراواں
1

ہیّ دیں کی زیارت کے لئے مُضطَر ہے دم میرا

اِسی کرب مُسَلسَل سے ہے دِل سیّد الَم میرا

2

ہے شامِ زِندگی ڈھلنے کو منزِل ہے ابھی آگے

بہت رفتار میں پیچھے ہے رہبارِ قلم میرا

3

ذر مُوئے پہ تجھکو ملنے کا اِذن ہو گا

رہے گا کوئی بھی ارمان نہ دِل میں کوئی غم میرا

4

عطا ہو دِل، تصلّی خُدا جس میں ہو نظر آئے

اِسی سے جاں جہاں آئے اِسے اِسی سے دم میرا

5

مجھے سب کچھ ملا ہے آپؐ کے دستِ توسّل سے

نہیں مجھ برج آپؐ کے مونِس کوئی حق کی قسم میرا

6

ذرِ شاہِ رُسلؐ کی خاکِ پاک اِکسیر اعظم ہے

بغیں شاہِ رنگب⚠️ مہز روشنِ ذرِ یم میرا

7

ہیّ بغداد کا خطِ خاطی ذوقِ غلامی رکھتا ہے

اِسی باعث زمیں میں اُس کی ساؔجِد ہے قدم میرا