← شوقِ فراواں
1
کاش ہو شاہِ رُسُلؐ کے یہ ہِرا سرِ زیر پا
در دریچے وا ہوں وہ دِل کے بھی برابر زیر پا
2
جس طرف تشریف لے جاتے ہیں حضرتِ مصطفٰےؐ
ہیں بچھاتے نوریاں قُدس بھی پر زیر پا
3
آمدِ و رفتِ آپؐ کی ہے آج بھی اس بزم میں
رہتے ہیں ارضِ و فلَک شانِکھی سَمُندر زیر پا
4
وہ زیارت گاہ خاص و عام ہے آفاق میں
شاہِ عالَم سے رہا واصِل جو چتّر زیر پا
5
آپؐ اِمام انبیاءؑ و مسلمین ہیں دَہر میں
اُن کے ہیں گُل اولیاءِ غوث و قلندر زیر پا
6
آپؐ فضلِ حق تعالیٰ سے ہیں سُلطان جہاں
قُدسی و جنی و بشر ہیں سب کے لشکر زیر پا
7
آپؐ ساؔجِد پامینے ہیں کشور و تاج
رکھتے ہیں تقسیم کو گنجینہ زر زیر پا