شوقِ فراواں
1

اُن کا جہاں میں کون ہے ہمدوش نقش پا

کر دے مِرے خُدا مجھے مدہوش نقش پا

2

صلِ علیٰ ہے آپؐ کی نِسبت کا فیض ہے

دِل کو سُکون آئے ہے آغوش نقش پا

3

تخلیق اُن کے پائے مُبارَک کی ہے مِثال

شُکر فِشاں عجب ہے لب خاموش نقش پا

4

لاریب ہے یہ بیشتِ حُسینؑ گُل زمین دِل

جس پر ہوا ہے شبِ تن و توش نقش پا

5

عشقاق کی نظر میں ہے قبلہ میں ہے یہ حق

جانے کوئی ہے بے زنجیر⚠️ حُسین پوش نقش پا

6

اس نقش پا کی ہم کو زیارت نصیب ہو

رحمت کا ہے یہ مجمعِ⚠️ سر دوش نقش پا

7

سائے میں پاک ساؔجِد ہو سر ہِرا

چمپ جاؤں زیر دامَنِ زو پوش نقش پا