شوقِ فراواں

اُس گُل زمیں کے شوق میں ہر تخمِ باغ پا

اُن کے مسافروں کے ہیں ہیں از نُور داغ پا

اُتم القری میں ذات کا آیا نظر جمال

تھے جتنو⚠️ میں کوہ گوہ اور راغِ باغ پا

ہوتے ہیں پھول زرد سنیں جب ناوءِ⚠️ نشیں

رکھتے ہیں جب چَمن میں یہ ہے ذوقِ ذاغ⚠️ باغ پا

اصحابِ محمدؐؐ دیدِ نبیؐ تھے شاہد دوشِ روز

تو بھی مگی⚠️ خُدا سے ماگ کر روشن دماغ باغ پا

یقین قدم سے آپؐ کے لطفی⚠️ تھے بے خُودی

کرتے تھے سنگ ریزوں کو مٹی کے مِثل ایاغ⚠️ باغ پا

سنتے ہیں جب فضیلتیں شانِ رسُولؐ کی

ہوتے ہیں بدنصیب⚠️ یہ ہیں چِراغ باغ پا

ساجدؔ خُدا کی ذات ہے اللہ سے ہیں عَیاں

اللہ کا تو شاہِ رُسُلؐ سے ہے سراغ باغ پا