شوقِ فراواں
1

اُس گُل زمیں کے شوق میں ہر تخمِ باغ پا

اُن کے مسافروں کے ہیں ہیں از نُور داغ پا

2

اُتم القری میں ذات کا آیا نظر جمال

تھے جتنو⚠️ میں کوہ گوہ اور راغِ باغ پا

3

ہوتے ہیں پھول زرد سنیں جب ناوءِ⚠️ نشیں

رکھتے ہیں جب چَمن میں یہ ہے ذوقِ ذاغ⚠️ باغ پا

4

اصحابِ محمدؐؐؐؐ دیدِ نبیؐ تھے شاہد دوشِ روز

تو بھی مگی⚠️ خُدا سے ماگ کر روشن دماغ باغ پا

5

یقین قدم سے آپؐ کے لطفی⚠️ تھے بے خُودی

کرتے تھے سنگ ریزوں کو مٹی کے مِثل ایاغ⚠️ باغ پا

6

سنتے ہیں جب فضیلتیں شانِ رسُولؐ کی

ہوتے ہیں بدنصیب⚠️ یہ ہیں چِراغ باغ پا

7

ساؔجِد خُدا کی ذات ہے اللہ سے ہیں عَیاں

اللہ کا تو شاہِ رُسُلؐ سے ہے سراغ باغ پا