← نور و سرور
1
شُکرِ باری‘ حاظری کا اب پَیام آ ہی گیا
میرے افسردہ لبوں پر اُن کا جام آہی گیا
2
اب حرم کی دید سے شاداں ہیں قلب و جاں مِرے
آخرِ کار اشک و آہ و نالہ کام آہی گیا
3
جان میری آپؐ کی بیکس نوازی پر فِدا
اُن کے در کے خادموں میں میرا نام آہی گیا
4
بے کلی ایسی بڑھی بُعدِ مسافت گھٹ گیا
قربتیں بڑھتی گئیں باب السّلام آہی گیا
5
دِل کی حَسرت مِٹ گئی ارمان پورا ہو گیا
نام میرے اُن کی جانِب سے پَیام آہی گیا
6
بند دروازے کُھلے ہر طاق روشن ہو گیا
رُوبروئے چشمِ دِل ‘ حُسنِ تمام آہی گیا
7
رات دِن ساؔجِد نظر میں اب بہارِ خُلد ہے
شاہؐ کے دربارِ اَقدس میں غلام آہی گیا