نور و سرور

شُکرِ ایزدی کا اب پَیام آہی گیا

میرے افسردہ لبوں پر اُن کا جام آہی گیا

اب حرم کی دید سے شاداں ہیں قلب و جاں مِرے

آخر کار اشک و آہ و نالہ کام آہی گیا

جان میری آپؐ کی بے نیکس نوازی پر فِدا

اُن کے در کے خادموں میں میرا نام آہی گیا

بے کلی ایسی بڑھی بُعدِ مسافت گھٹ گیا

قربتیں بڑھتی گئیں باب السلام آہی گیا

دِل کی حَسرت مٹ گئی ارمان پورا ہو گیا

نام میرے اُن کی جانِب کا پَیام آہی گیا

بند دروازے کُھلے ہر طاق روشن ہو گیا

رُوبروئے چشمِ دِل حُسنِ تمام آہی گیا

رات دِن ساجد نظر میں اب بہارِ خُلد ہے

شاہؐ کے دربارِ اَقُدس میں غلام آہی گیا