نور و سرور
1

سیدِؐ عالَم کا لُطفِ جاودانی چاہیے

اُن کی شفقت چاہیے اور مہربانی چاہیے

2

سیم و زر کیا جان و ایماں آپؐ پر قُربان ہیں

اُن کے قدموں میں رہوں یہ شادمانی چاہیے

3

خلعت و پوشاکِ زرّیں کی نہیں ہے آرزو

خاص ہے جو اُن کے اپنوں کی نشانی چاہیے

4

دِل میں سیلِ شوق ہو لب پر نبیؐ کا نام ہو

اُن کی خاطِر وقف ہو وہ زِندگانی چاہیے

5

آپؐ کے در کے فقیروں میں مِرا بھی نام ہو

بادشاہی چاہیے نہ حکمرانی چاہیے

6

شوقِ دِل کی داستاں لب سے بیاں ہوتی نہیں

اشکِ خونیں کی زُباں میں ترجمانی چاہیے

7

رات دِن لکھتا رہوں ساؔجِد ثنائے مُصطفٰیؐ

طبعِ موزوں کو مِری ایسی روانی چاہیے