نور و سرور
1

آب و ہوائے شہرِ نبیؐ چاہیے مجھے

مَستی ‘ سُرور ‘ کیف ‘ خُوشی چاہیے مجھے

2

دِل پر مِرے حقیقتِ اشیا ہو مُنکَشِف

دِن رات شوقِ حق نگری چاہیے مجھے

3

رعنائیِ بہارِ چَمن خوب ہے مگر

نظارۂ جمالِ نبیؐ چاہیے مجھے

4

اِک آرزو یہی ہے درِ مصطفٰیؐ ملے

کچھ تاج چاہیے نہ شہی چاہیے مجھے

5

ٹُوٹے دِلوں کو جوڑوں ‘ یہی شوق ہے مِرا

اُدھڑی قبا کی بَخیَہ گَری چاہیے مجھے

6

ہر لحظ ذوق و شوق نیا ـ‘ حوصلہ نیا

جلوہ نیا ‘ نظر بھی نئی‘ چاہیے مجھے

7

یارب! حضورِ دائمی مجھ کو نصیب ہو

بس تُو ہی تُو ہو دِل میں یہی چاہیے مجھے