شوقِ فراواں
1

سیدؐ کونین سے ہم کو محبت ہو تو ہو

اس طرف وہ مُلتَفِت ہوں یہ عِنایَت ہو تو ہو

2

جلوہ فرما ہو اُن پر کا نُور رحمت ہو تو ہو

قوم پر سایہ کُناں دامان حضرتؐ ہو تو ہو

3

ہم اسیرانِ الَم ہیں معصیت آلود ہیں

دِل کو خوشندی⚠️ مییسرؐ گر شفاعت ہو تو ہو

4

اِک یہی شاہؐ رُسُل سے اپنی نِسبت کا نِشاں

چاند کی صورت فُرُوزَاں داغ اُلفت ہو تو ہو

5

اِک اشارہ آپؐ کی رحمت کا ہے کافی ہمیں

ایک ہلکی سی نظر سے دِل کو راحَت ہو تو ہو

6

کس قدر آفاق میں ہے حال ابتر قوم کا

آپؐ کے اِرشاد پر کافور شامت ہو تو ہو

7

کوئی مشکل ہی نہیں ساؔجِد سنورنا بخت کا

شاہؐ کے دربار میں منظور مِدحت ہو تو ہو