شوقِ فراواں

ظُلمتِ شب میں بھی تم دور سحر دیکھتے ہو

ہم سے بھی کہہ دو جو تم اہل نظر دیکھتے ہو

آنکھ روشن ہے تو تُجھ جلوہ حق کچھ بھی نہیں

جَلوے آتے ہیں نظر تھیک⚠️ اگر دیکھتے ہو

گر خُدا تم کو نظر آتا نہیں ہے تو کبھو

آپ پھر اور کے شام و سحر دیکھتے ہو

غیر ہو اور خُدا دونوں ممکِن نہیں ہے

آپ ہی کہہ دیں کے پیش نظر دیکھتے ہو

بات ایمان کی ہے سب میں ہیں نئی⚠️ کے جَلوے

یہ جو تم اُنمؐ و خورشید و قمر دیکھتے ہو

حق کے محبوب رہے جس پر رواں مسجد میں

باغ جنت کا وہ تم راہبر دیکھتے⚠️ ہو

مِشک و عنبر کی بیاں کرتے ہیں ساجدؔ رودادِ⚠️

یہ شکتہ⚠️ سے جو تم کچھ و ذر دیکھتے ہو