شوقِ فراواں
1

ظُلمتِ شب میں بھی تم دور سحر دیکھتے ہو

ہم سے بھی کہہ دو جو تم اہل نظر دیکھتے ہو

2

آنکھ روشن ہے تو تُجھ جلوہ حق کچھ بھی نہیں

جَلوے آتے ہیں نظر تھیک⚠️ اگر دیکھتے ہو

3

گر خُدا تم کو نظر آتا نہیں ہے تو کبھو

آپ پھر اور کے شام و سحر دیکھتے ہو

4

غیر ہو اور خُدا دونوں ممکِن نہیں ہے

آپ ہی کہہ دیں کے پیش نظر دیکھتے ہو

5

بات ایمان کی ہے سب میں ہیں نئی⚠️ کے جَلوے

یہ جو تم اُنمؐ و خورشید و قمر دیکھتے ہو

6

حق کے محبوب رہے جس پر رواں مسجد میں

باغ جنت کا وہ تم راہبر دیکھتے⚠️ ہو

7

مِشک و عنبر کی بیاں کرتے ہیں ساؔجِد رودادِ⚠️

یہ شکتہ⚠️ سے جو تم کچھ و ذر دیکھتے ہو