شوقِ فراواں
1

ہوں لاکہ⚠️ راہ عِشق میں غم اور زیادہ

ہم شوق سے جھیلیں گے الَم اور زیادہ

2

تکلیف اُٹھائیں تو جگر اور ہو شاداب

دِل میں ہو غم شاہؐ سے دم اور زیادہ

3

اے ہمت مرداں! ابھی منزِل نہیں آئی

چلنا ہے ابھی چند قدم اور زیادہ

4

دشواریاں جتنی ہوں راہ شاہؐ رُسُل میں

ہم ہوتے ہیں خُوش حق کی قسم اور زیادہ

5

ہوتی ہی نہیں ختم کبھی قُرب کی راہیں

بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ہم اور زیادہ

6

آقائے دو عالَم کی نَوازِش سے مُسَلسَل

ہوتے ہیں شب و روز کرم اور زیادہ

7

ساؔجِد ہو لحد میں بھی ثَنا میری زُباں پر

آہوئے⚠️ قلم کا ہو یہ رم اور زیادہ