ذوقِ جمال

شاہِ حسن کا یہ دیار ہے

کیا ہی رنگ لیل و نہار ہے

جو خُدا کے نام کا ہم نشیں

وہی نام دِل کا قرار ہے

جو انیس ، غمزدہ جاں کا

وہ رسُولؐ ، حقِ حکمکار⚠️ ہے

مجھے ہر قدم پہ مصیبتیں

مِرے سر پہ میرا ہی بار ہے

کہیں جو درست کہیں نہ ہو⚠️

کریں جس میں عار نہ ناار⚠️ ہے

اہل حق کی جس پہ نظر رہے

وہ صفینہ⚠️ خیر سے پار ہے

یہ ہیں ساجدؔ ان کے ہی سمجھے

کہ خزواں بھی آج کے بہار ہے