← ذوقِ جمال
عنوان: نظم
مقطع ↓1
زِندگی میں سے آسانی ہے
جس نے یہ بات سدا مانی ہے
2
ذاتی حق کی ہیں صِفات و اسما
اس حقیقت ہی کی سلطانی ہے
3
روح ہے اور مِثال و تاسوت⚠️
عقل نے خَلق یہ پہچانی ہے
4
چھپ سے اس نسخہ کی ترکیب ہوئی
پس یہی رمزِ انسانی ہے
5
خَلق و حق ، ذات کی دو شانیں ہیں
سِر آسرار یہ سُجھانی ہے
6
خَلق و حق کے ہے میاں ذاتِ رسُولؐ
یہ حقیقت کی گُل افشانی ہے
7
مرتے میں نے یہ خُدا ہیں ساؔجِد
اس کا اِدراک مسلمانی ہے