ذوقِ جمال
1

حق عطا کر دے اگر ساغَرِ عِرفاں ہم کو

ہیں قَریں جانِ سے بھی سیّدؔ ذی شاں ہم کو

2

مستِ و سَرشار دِل و جاں ہیں، دونوں ذاتیں ہم

اُن کی رحمت سے رو زیت ہے آساں ہم کو

3

نظر افروز ہے رنگِ آپؐ کے بام و در کا

کیا حَسِیں لگتا ہے آقاؐ کا شبِستاں ہم کو

4

اُن کی خُوشبو ہمیں آتی ہے اب فضا میں بھی

خُوب ہے خُلد سے کے کا بے بِیاباں ہم کو

5

بے قرار اب ہے دِل اور لب پر فریاد

بیٹھنے دیتی نہیں آتشِ پنہاں ہم کو

6

دِل کا دِن رات کی ہیں رات ذو الفلیس⚠️ کیا ہیں

حسن اعجاز ہیں وہ گئے گوسیے⚠️ پہچاں ہم کو

7

نعت گو شاعروں کے آپؐ ہیں مُونِسِ ساؔجِد

رہتے دیتے نہیں وہ ہم بے سروساماں ہم کو