حرفِ نیاز

کاش ایسی بھی اِک سحر آئے

مجھ کو محبوبِ جاں نظر آئے

کوئی اُن سا حسین نہیں دیکھا

لاکھ گُل چہرہ پَیمبر آئے

اب خِیالِ اُن کا جزوِ جان ہوا

یادِ بُلھا کی پیشتر آئے ⚠️

با ادب اے دِل و نظر! ہشیار

شاہِ عالَم کے بام و در آئے

جب سے آنکھیں ہوئی ہیں دا دِل کی ⚠️

دِل کو ہر سُو وہی نظر آئے

ہم کو دُنیا سے کچھ نہیں لینا

ہم یونہی گھومنے اِدھر آئے

ہیں دریچہ و بامِ نُورِ افشاں

کون ساجدؔ کے آج گھر آئے

"جب سے آنکھیں ہوئی ہیں دا دِل کی" — possibly "جب سے آنکھیں ہوئی ہیں وادِ دِل کی"]