حرفِ نیاز
1

XXXکاش ایسی بھی اِک سحر آئے

مجھ کو محبوبِ جاں نظر آئے

2

کوئی اُن سا حسیں نہیں دیکھا

لاکھ گُل چہرہ سِیمبر آئے

3

اب خِیالِ اُن کا جزوِ جان ہوا

یادِ بطحا کی بیشتر آئے

4

با ادب اے دِل و نظر! ہشیار

شاہِ عالَم کے بام و در آئے

5

جب سے آنکھیں ہوئی ہیں دا دِل کی

دِل کو ہر سُو وہی نظر آئے

6

ہم کو دُنیا سے کچھ نہیں لینا

ہم یونہی گھومنے اِدھر آئے

7

ہیں دریچہ و بامِ نُورِ افشاں

کون ساؔجِد کے آج گھر آئے

8

"جب سے آنکھیں ہوئی ہیں دا دِل کی" — possibly "جب سے آنکھیں ہوئی ہیں وادِ دِل کی"]