← حرفِ نیاز
کھڑا در پر سراپا اِلتجا ہوں یا رسُول اللہ
غلامِ کمتریں ادنیٰ گَدا ہوں یا رسُول اللہ
سہارا دیجئے بے دست و پا ہوں یا رسُول اللہ
کرم فرمائے بے آسرا ہوں یا رسُول اللہ
مِرا حالِ زَبُوں محتاجِ چشمِ لُطف ہے خواجہ!
پریشاں ہوں گرفتارِ بلا ہوں یا رسُول اللہ
تِری دوری دِل و جاں کو بہت بے چین رکھتی ہے
غمِ فرقت میں تیرے مبتلا ہوں یا رسُول اللہ
مہینہ ہے رجب کا مستحق میں بھی کرم کا ہوں
طلبگارِ عطا ہوں بے نَوا ہوں یا رسُول اللہ
فدائی ہوں ابوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و حیدرؓ کا
گدائے کوچۂ آلِ عبا ہوں یا رسُول اللہ
میں ساجدؔ نام کا ہوں کام ساجدؔ مجھے کر دے
غُبارِ راہ کی صورت پڑا ہوں یا رسُول اللہ