جانِ جہاں

شُکرِ خُدا میں حاضِرِ دربار ہو گیا

سویا ہوا نصیب اب بیدار ہو گیا

فیضان ہے تمام صلوٰۃ و سلام کا

آزاد بندِ غم سے دِلِ زار ہو گیا

اُس کا مزاج پوچھتے آتے ہیں اہلِ عرش

جو شوقِ دیدِ شاہ ﷺ میں بیمار ہو گیا

واللہ، اس پہ آتشِ دوزخ حرام ہے

جس کو رسُولِ پاک ﷺ کا دِیدار ہو گیا

ساری یہ اُن کے کیں⚠️ قدم کی بہار ہے

بے آب ریگزار بھی گُلزار ہو گیا

آیا جو ہر قتل، وہ سنتے ہی وہ⚠️ پاک

اُن پر نثار ہونے کو تیّار ہو گیا

ساجدؔ مِرے مشامِ جاں میں عطر ہے بسا

نعتِ نبی ﷺ سے دِل برا⚠️ سَرشار ہو گیا