جانِ جہاں

لعل و گوہر نہ زنجہ⚠️ و دستار چاہیے

ہم کو نبی ﷺ کا سایۂ دیوار چاہیے

دِل میں محبّتِ شہِ ابرار ﷺ چاہیے

تاریکیوں میں ماہِ ضِیا بار چاہیے

ہر زکوٰۃ، مفلس و نادار چاہیے

عصیاں کے بخشنے کو گنہگار چاہیے

صادِق اگر ہے جذبہ تو مشکل نہیں کوئی

ثابت قدم بلا کا طلب گار چاہیے

کمپیں درودِ پاک کے تھتکے⚠️ وہ رات دِن

جن کو عِلاجِ دردِ دِلِ زار چاہیے

ذِکرِ نبی ﷺ سے جان و دِل رہتے ہیں پُر سُکوں

ذِکرِ نبی ﷺ ایسی شبِ تار چاہیے

بازارِ عنبروں سے ہیں ساجدؔ بھرے پڑے

جوہرِ نِشاں⚠️ کوئی خریدار چاہیے