جانِ جہاں

نصیبِ فخر ہمیں آپ ﷺ کی گدائی کا

نِہاں ہے جوہرِ پاک اُن میں حق نمائی کا

جو رات دِن اُنہیں دیکھے کوئی تَصوُّر میں

خِیال ایسے میں پھر وہم ہے جدائی کا

بقدرِ ظرف ہر اِک فرد فیضیاب ہوا

فضول قصّہ ہے قِسِمت کی نارسائی کا

نبی ﷺ کے نام سے، شُکرِ خُدا، لٹلی⚠️ ہے مگر

نبی ﷺ کا نام ہے ضامنِ مِری رہائی کا

گناہگاروں سے اب پوچھتے ہیں راہِ نَجات

جنہیں تھا زعم بہت اپنی پارسائی کا

درود ہوتا ہے تنہائیوں میں مُونِسِ جاں

وسیلۂ نامِ محمّد ﷺ ہے آشنائی کا

بُلند دین کا پرچم سدا رہے ساجدؔ

یونہی ہو ذِکر سدا شانِ مصطفائی کا