جانِ جہاں
1

نصیبِ فخر ہمیں آپ ﷺ کی گدائی کا

نِہاں ہے جوہرِ پاک اُن میں حق نمائی کا

2

جو رات دِن اُنہیں دیکھے کوئی تَصوُّر میں

خِیال ایسے میں پھر وہم ہے جدائی کا

3

بقدرِ ظرف ہر اِک فرد فیضیاب ہوا

فضول قصّہ ہے قِسِمت کی نارسائی کا

4

نبی ﷺ کے نام سے، شُکرِ خُدا، لٹلی⚠️ ہے مگر

نبی ﷺ کا نام ہے ضامنِ مِری رہائی کا

5

گناہگاروں سے اب پوچھتے ہیں راہِ نَجات

جنہیں تھا زعم بہت اپنی پارسائی کا

6

درود ہوتا ہے تنہائیوں میں مُونِسِ جاں

وسیلۂ نامِ محمّد ﷺ ہے آشنائی کا

7

بُلند دین کا پرچم سدا رہے ساؔجِد

یونہی ہو ذِکر سدا شانِ مصطفائی کا