شوقِ فراواں
1

جب سمیٹا آپؐ جہاں میں آئے درود آشنا

درود کوئی بھی نہیں لادوا⚠️

2

شانِ اُن کی بادشاہوں سے ورا

تخت سے بڑھ کر ہے اُن کا بُوریا⚠️

3

اُن کا بندہ دے سُلطان کو کدا

شاہ کی چھولی⚠️ مجھے اُن کا کدا⚠️

4

میرے آقا! اُک تَوَجُّہ چاہیے

آپؐ پر روشن ہے دِل کا ماجرا

5

بخششوں کا بھی نہیں ہے کوئی شار⚠️

ٹمکی ہے میں ہوں سراو⚠️ واری سرا⚠️

6

آزمایا جا رہا ہے ضبطِ دِل

دیکھتے ہوتا ہے اب کیا فیصلہ

7

آج کل ساؔجِد عجیب ہے خُودی

زِندگانی کا الوکھا⚠️ مرجا⚠️