جانِ جہاں

مِعراج کی رات

مقطع ↓

بیکراں خوشیوں کا اظہار تھا مِعراج کی رات

ذرّہ ہر ایک ضِیا بار تھا مِعراج کی رات

گرمِ اکرام کا بازار تھا مِعراج کی رات

ہر کوئی سرخوش و سَرشار تھا مِعراج کی رات

جلوۂ ذات کا دربار تھا مِعراج کی رات

عَبد و معبود کا اقرار تھا مِعراج کی رات

لامَکاں، منزِلِ سردارِ رُسُل ﷺ تھی، اللہ

راستا خُلد کا گُزار تھا مِعراج کی رات

دیکھ کر سیّدِ لولاک ﷺ کی عِزّت حشمت

محلِ⚠️ اُٹھا جو بتِ⚠️ چنار تھا مِعراج کی رات

دیدۂ میرِ اُمم ﷺ میں تھی عَیاں ذاتِ خُدا

اُلفت و عِشق کا اظہار تھا مِعراج کی رات

گم ہوئی ذاتِ نبوی ﷺ ذاتِ خُدا میں ساجدؔ

کیا عجب وَصل کا معیار تھا مِعراج کی رات