← شوقِ فراواں
1
پہلوئے دِل میں نہیں زِنہَار دُور کی طمع
ہے فقَط پیوستِ جاں درگاہِ سرُور کی طمع
2
خاکِ پاکِ در کی خُوشبو سے معطّر جو ہوا
اُس کے دِل میں بس گئی شہرِ مُنوّر کی طمع
3
مست رہتا ہے جو طوفِ روضۂ سرکار میں
کس قدر ہے کیف آگیں اُس کبوتر کی طمع
4
ذِکرِ اُن کا یادِ اُن کی اور خِیال اُن کا سدا
ساتھ ہی دِل میں ہے میرے اُن کے ساغَر کی طمع
5
اے خُدا! ہم کو عطا ہو دولتِ حبِّ رسُول
روح فرسا ہے نہایت گوہر و زر کی طمع
6
اِس طمع سے بڑھ کے کوئی آرزو اچھی نہیں
حضرتِ شاہِ رُسُل محبوبِ داوَر کی طمع
7
منزِلِ مقصود ساؔجِد ہے بہت نزدیک اُسے
جس کو رہتی ہے سدا سرکار کے در کی طمع