شوقِ فراواں
1

گھاٹ میں بیٹھا ہے ہر رہزنِ⚠️ الحفیظ

مشفق من! خواجۂ من! الحفیظ

2

آدمی کو ہے سمجھنا سخت کام

کون مُونِس کون دشمن الحفیظ

3

کیا چھپائی ہے تباہی کُفر نے

لٹ گیا کابل کا جوہن⚠️ الحفیظ

4

کیا ہوئی قندھار کی دِلکش بہار

خاک ہے مل کر یہ خرمنِ⚠️ الحفیظ

5

سیّدِ لولاک! اِک چشمِ کرم

اوج پر ساحر کا ہے فن الحفیظ

6

ہم یہ دِل سے چاہتے ہیں یا نبی!

آپ کا چھوٹے نہ دامَن الحفیظ

7

دِل تھے ساؔجِد صورتِ گُل شاداں

مل مٹے گُلشن کے گُلشن الحفیظ