شوقِ فراواں
1

ہے درودوں کا جواب خاص جو بادی کا خط

ہے غمِ جاں سے خلاصی اور آزادی کا خط

2

بلا ادب کے نامِ ناسے⚠️ لُطف کے آئیں سدا

بے ادب کے واسطے ہے رنج و ناشادی کا خط

3

کوئی بھی محروم اِس درسِ ہدایت سے نہیں

شَرق سے تا غَرب پہنچا سب کو ہے بادی⚠️ کا خط

4

جس نے بوئے خار وہ کاٹے گا فصلِ خار⚠️ ہی

فرو⚠️ اَعمال ہے گویا ہے بربادی کا خط

5

لہلہا اُٹھے بہارِ حسن سے ویران دِل

یادِ فصلِ گُل ہے بلبل کی شمیں⚠️ وادی کا خط

6

سرخوشی کی ہے نوید جاں فِزا اُن کا خِیال

یادِ محبوبِ خُدا ہے دِل کی آبادی کا خط

7

جس میں ہے تحریر ساؔجِد کے دِلِ مُضطَر کا حال

شاہ کے ہے نامِ⚠️ اُن کے ایک فریادی کا خط