شوقِ فراواں
1

جو بھی خلوصِ دِل سے کرے استقبالِ فیض

اِس کو ملے ضرور درِ شاہوار فیض

2

اللہ کا حبیب ہے رحمتِ جہاں کی

سارا جہاں آپ کے ہے زیرِ بار فیض

3

اُنس و ملک کہ حور و پری مِشک و رنگ و نُور

کروں⚠️ و عرش و ماہ و خور⚠️ آئینہ دار فیض

4

جنّت ہے جلوہ گاہ محمدؐؐؐ کے نُور سے

حیران فرشتے دیکھ کے ہیں شاہکار فیض

5

ہر صبح و شام اُن کو میسّر ہیں راحتیں

بخشی خُدا نے جن کو پناہِ حِصار فیض

6

اِس سِمت رحمتوں کی بڑی⚠️ ہیں بدلیاں

کرتی ہے رُخِ چدھر⚠️ کا یہ بادِ بہار فیض

7

شُکرِ خُدا نصیب ہوئی اُلفتِ⚠️ رسُول

ساؔجِد خُدا کے فضل سے ہے ریزہ خَوار فیض