شوقِ فراواں

جو بھی خلوصِ دِل سے کرے استقبالِ فیض

اِس کو ملے ضرور درِ شاہوار فیض

اللہ کا حبیب ہے رحمتِ جہاں کی

سارا جہاں آپ کے ہے زیرِ بار فیض

اُنس و ملک کہ حور و پری مِشک و رنگ و نُور

کروں⚠️ و عرش و ماہ و خور⚠️ آئینہ دار فیض

جنّت ہے جلوہ گاہ محمدؐ کے نُور سے

حیران فرشتے دیکھ کے ہیں شاہکار فیض

ہر صبح و شام اُن کو میسّر ہیں راحتیں

بخشی خُدا نے جن کو پناہِ حِصار فیض

اِس سِمت رحمتوں کی بڑی⚠️ ہیں بدلیاں

کرتی ہے رُخِ چدھر⚠️ کا یہ بادِ بہار فیض

شُکرِ خُدا نصیب ہوئی اُلفتِ⚠️ رسُول

ساجدؔ خُدا کے فضل سے ہے ریزہ خَوار فیض