شوقِ فراواں

وہ ہیں تو پھر کسی کے تفضّل سے کیا غرض

سرمستی سوار ہیں جو انہیں بلِ⚠️ سے کیا غرض

جن کے لبوں پہ شام و سحر ہے نبی کا نام

اُن کو ہراس و خوفِ تزلزل سے کیا غرض

سر پر ہے جن کے دستِ نَوازِشِ کریم کا

ایسوں کو زاہدوں کے تکلّف⚠️ سے کیا غرض

جن کے ہے رُخ پہ غازۂ⚠️ خاکِ درِ رسُول

اُن کو حسینِ رنگِ تجمّل سے کیا غرض

جن کو ملی ہے دولتِ منبعِ⚠️ نبی انہیں

سیم و زر و کلاہ و تعمّل⚠️ سے کیا غرض

فیضِ نبی سے دیکھتے ہیں جو پنجمِ⚠️ جہاں

اُن کو تَصوُّر اور تخیّل سے کیا غرض

ساجدؔ سمجھا غزل ہے سمجھا نعتِ مصطفیٰ

جو نعت گو ہے اِس کو تغزّل سے کیا غرض