← شوقِ فراواں
ڈھل گئے ذِکرِ نبی سے دِل مایوس کے داغ
اُڑ گئے بن کے دھواں کوکبِ منحوس⚠️ کے داغ
ہیں نفاق اور ریا حق سے جدائی کے نِشاں
داغ ہوتے ہیں ابھیت⚠️ خرقۂ سالوس⚠️ کے داغ
جس نے بازوئے درِ شاہ کو تھاما دِل سے
اُس سے کافور ہوئے کلفت و افسوس کے داغ
وہ کریں ایک نظر سے دِل و جاں کو شاداب
دُور اِک آن میں ہوں دامَنِ ناموس⚠️ کے داغ
آپ کا داغِ محبت ہے نہایت دِلکش
دِلِ ٹھنڈا⚠️ گرچہ بہت ہیں پرِ طاؤس کے داغ
پِیرَوی اُسوۂ کامِل کی سراسر ہے جمال
بڑھا بسکہ مناقب کے ہیں ملبوس⚠️ کے داغ
وسوسوں سے دِل ساجدؔ ہو خُدایا! خالی
بسکہ پر درد ہوتے⚠️ سینے کے چاسوں⚠️ کے داغ