شوقِ فراواں

کیا مہربانیاں ہیں دِلِ شاہِ⚠️ صدقے

اہم⚠️ بہار بن کر کیا ہم پہ برسے صدقے

اقلیم و تاج اُن کے ہاتھوں کے بٹتے رہتے ہیں

ہوتے جہاں میں ہیں سُلطانِ کے درِ صدقے

بھرتے میں مظلوسوں⚠️ کے ہاتھوں سے بٹ رہے ہیں

تقسیمِ کر رہیں ہیں سُلطانِ کے در صدقے

بغداد ہیں مغلوسوں⚠️ کی خِدمت میں آگا

تقسیمِ کر رہیں ہیں لُطفِ نظر صدقے

عالَم میں اہلِ دِل ہیں سے اُن کے حسین⚠️ کی

اللہ کا الجہاں ہے سب اُن کے سر صدقے

اُن کی نوازشیں ہیں اُن کی عنایتیں ہیں

ظاہر جو ہو رہے ہیں ہر تاجور صدقے

ساجدؔ کی عمر گزرے شاہِ رُسُل کے در پر

سب جانِ و مال و گوہر آپؐ پر صدقے