شوقِ فراواں
1

کیا مہربانیاں ہیں دِلِ شاہِ⚠️ صدقے

اہم⚠️ بہار بن کر کیا ہم پہ برسے صدقے

2

اقلیم و تاج اُن کے ہاتھوں کے بٹتے رہتے ہیں

ہوتے جہاں میں ہیں سُلطانِ کے درِ صدقے

3

بھرتے میں مظلوسوں⚠️ کے ہاتھوں سے بٹ رہے ہیں

تقسیمِ کر رہیں ہیں سُلطانِ کے در صدقے

4

بغداد ہیں مغلوسوں⚠️ کی خِدمت میں آگا

تقسیمِ کر رہیں ہیں لُطفِ نظر صدقے

5

عالَم میں اہلِ دِل ہیں سے اُن کے حسین⚠️ کی

اللہ کا الجہاں ہے سب اُن کے سر صدقے

6

اُن کی نوازشیں ہیں اُن کی عنایتیں ہیں

ظاہر جو ہو رہے ہیں ہر تاجور صدقے

7

ساؔجِد کی عمر گزرے شاہِ رُسُل کے در پر

سب جانِ و مال و گوہر آپؐ پر صدقے