شوقِ فراواں

نبیؐ کی ذات بھی عالَم پناہ کیا ہو گی

نبیؐ کا راستہ وہ شاہراہ کیا ہو گی

فضائے طَیَّبہ میں ہر سِمت مِشک و ناشک و سحر

یہ فردِ اُن کے عمل کی سیاہ کیا ہو گی

بصدِ نِیاز و ادب ہیں کھڑے جہاں قدمی

رسُولؐ پاک کی وہ بارگاہ کیا ہو گی

وہ جس میں منوئے⚠️ مُبارَک تھا شاہِ عالَم کا

امیرِ⚠️ فوج کی نُوری⚠️ غلاہ⚠️ کیا ہو گی

شرفِ قلک⚠️ کو ملا آپؐ کی کف پا سے

طلوعِ صبح کی صورت وہ راہ کیا ہو گی

روِ خُدا میں جو قُرباں ہو گئے ساجدؔ

نبیؐ سے اُن کی محبت وہ چاہ کیا ہو گی