شوقِ فراواں

دِل ہے وہ دِل ہو جس میں رسُولِ خُدا کا عِشق

اللہ کے حبیب شہِ دو سرا کا عِشق

ملتا نہیں یہ رتبہ ریاضت کے زور سے

اِنعام ہے کریم کا شاہِ بدری⚠️ کا عِشق

ممکِن نہیں بغیرِ نبی حق کی معرفت

بے عِشقِ مصطفیٰ نہیں ملتا خُدا کا عِشق

قُرباں اُن کے جان و جگر تھے رسُول پر

اصحاب کو حضور سے تھا انتہا کا عِشق

وہ دِل مِثالِ ساغَرِ کیفیت نما ہوا

دامان میں ہے جس کے شہِ انبیا کا عِشق

ذاتیں ہیں دو جُدا نہیں لیکن زیک⚠️ فکر

خیرالوریٰ کا عِشق ہے ربِّ العلیٰ کا عِشق

ساجدؔ کسی کو تخت ملا ہے کسی کو خن⚠️

بخشا مجھے خُدا نے ہے آلِ عبا کا عِشق