نور و سرور
1

گدائے شہر ہُوا شہریار ‘ صلِّ علیٰ

بفیضِ صاحبِ عِزّ و وقار ‘ صلِّ علیٰ

2

نبیؐ کے ذِکر سے حاصل ہے جان کو تسکیں

ہے اُن کی یاد سے دِل کو قرار‘ صلِّ علیٰ

3

نوازشات کی حد ہے نہ حِساب کوئی

ہے اُن کا لُطف و کرم بے شُمار‘ صلِّ علیٰ

4

اُنہی کے دم سے ہے گُلشن کا حُسن و زیبائی

اُنہی سے دِل ہوئے باغ و بہار‘ صلِّ علیٰ

5

وہ سربسر ہیں خُدائے کریم کا اِحسان

تمام رحمتِ پروَردِگار‘ صلِّ علیٰ

6

جَنابِ شاہِ رُسُلؐ پر گھڑی گھڑی ہو صلوٰۃ

سلام آپؐ پہ ہو بار بار‘ صلِّ علیٰ

7

تجھے ضرور وہ دَر پر بُلائیں گے ساؔجِد

نہیں فضول تِرا انتظار‘ صلِّ علیٰ