شوقِ فراواں

عزم ہے دِل میں مدینے کا برابر اپنا

جائیں گے ہم جو مقدّر ہوا یادِ⚠️ اپنا

آپ کے در کا بھٹیر⚠️ کے لیے ٹوٹ ہو جا

کیوں گنوا ہے بھرم بھر کے بنوں⚠️ در در اپنا

آج گھر میں ہے بسی محفِلِ میلادِ نبی

آج پھر لگتا ہے جنّت کی طرح گھر اپنا

شاہ کے در پہ ہر شام و سحر ہوں اپنے

بڑھ کے ہو ثقت⚠️ سکندر سے مقدّر اپنا

شوقِ قربانیِ جاں سے ہے بھرا دامَنِ دِل

راہ پر اُن کی لُٹا دیں گے یہ جوہر اپنا

آپ کی یاد سے سَرشار ہے دِل کی محفِل

آپ کا نام مُبارَک ہوا ساغَر اپنا

شاہ کے فیض سے ساجدؔ ہے سلامت الست

حق کا محبوب ہوا سیّد و سرُور اپنا