شوقِ فراواں
1

عزم ہے دِل میں مدینے کا برابر اپنا

جائیں گے ہم جو مقدّر ہوا یادِ⚠️ اپنا

2

آپ کے در کا بھٹیر⚠️ کے لیے ٹوٹ ہو جا

کیوں گنوا ہے بھرم بھر کے بنوں⚠️ در در اپنا

3

آج گھر میں ہے بسی محفِلِ میلادِ نبی

آج پھر لگتا ہے جنّت کی طرح گھر اپنا

4

شاہ کے در پہ ہر شام و سحر ہوں اپنے

بڑھ کے ہو ثقت⚠️ سکندر سے مقدّر اپنا

5

شوقِ قربانیِ جاں سے ہے بھرا دامَنِ دِل

راہ پر اُن کی لُٹا دیں گے یہ جوہر اپنا

6

آپ کی یاد سے سَرشار ہے دِل کی محفِل

آپ کا نام مُبارَک ہوا ساغَر اپنا

7

شاہ کے فیض سے ساؔجِد ہے سلامت الست

حق کا محبوب ہوا سیّد و سرُور اپنا