← شوقِ فراواں
زمانے میں ہے چرچا شاہ کی ختمِ رِسالت کا
محمدؐ مصطفیٰ کی عزّ و شان و لُطف و رحمت کا
ملائک اور حوریں گیت گائیں فتح و نصرت کا
سرِ اَفلاک لہراتا ہے پرچم اُن کی شوکت کا
بجے نقّارہ آلِ مصطفیٰ کا سارے عالَم میں
رواں ہو یک بہ یک ہر اقلیم⚠️ میں اُن کی سیادت کا
رکے جاتا ہے میرا سانس باتیں سُن کے دُنیا کی
خُدا را ذِکر چھیڑو شاہ کے فضل و عِنایَت کا
درودوں کے تحائف اُن کو بیچے⚠️ خالِقِ اکبر
خُدا کو ہے فقَط معلوم راز اُن کی فضیلت کا
غریبوں بے نَواؤں عاجزوں کا قبلۂ ایمان
انہیں بے کساں شاہِ رُسُل پَیکرِ⚠️ محبت کا
بنامِ خواجہ کمل⚠️ جائے بکرہ⚠️ علمِ حقیقت کی
کرم ہو ساجدؔ دِل گیر پر شاہِ وِلایت کا