شوقِ فراواں

کوئی ہم پایۂ پیغمبر نہیں حضرت محمدؐ کا

جہاں میں کون ہے ہمسر کوئی اُن کے اب و جد کا

نظر آئے گا حُسنِ ذات ہم کو فضلِ باری سے

کھلے گا جب ریاضِ جاں ہمارے شوق بے حد کا

خِیالِ مصطفیٰ میں دیدہ و دِل مست ہو جائیں

بنگھیاں⚠️ والا کہلاؤں میں مستانۂ احمد کا

نظر آئیں بہاریں ہی بہاریں جس طرف دیکھوں

سائے یوں بری آنکھوں میں نقشے سبز گُنبد کا

ہے⚠️ اُن کی طرف کعبہ بپاس عِزّت و عظمت

بہوا⚠️ چرچا زمیں و آسماں میں اُن کی آمد کا

محمدؐؐ مظہرِ ذات و صِفات و اسمِ اعظم ہیں

نہیں ہے اہل کوئی اور اُن کی پاک منصد⚠️ کا

جنہیں اپنی⚠️ لقب سے یاد کرتا ہے جہاں ساجدؔ

وہی رحمت کا پَیکر ہے سہارا نیک اور بد کا