شوقِ فراواں

کسی نقّاش سے کھپتا⚠️ نہیں ہے نقشِ احمد کا

جہاں میں جانتا کوئی نہیں ہے رازِ سرمد کا

تحقیقی⚠️ شانِ مُطلِق کا ہے نُورِ جاں مقیّد کا

رسُول اللہ سے ظاہر ہے جلوۂ حُسنِ بے حد کا

تعمیر خیر و شر جب تک نہیں بے سود ہے حکمت

نبی کے حکم سے ہے فرق ظاہر نیک اور بد کا

تعالیٰ اللہ یہ اِکسیرِ کامِلِ⚠️ خاکِ در اُن کی

تحقیقی⚠️ خُدا ہے نُورِ اَقُدس اُن کی مرقد کا

مُبارَک ہو اے دونوں جہاں کی نعمتِ عظمیٰ

نئے دِیدار حاصل ہو گیا حضرتِ محمدؐ کا

ہمیں ابلیس کے شر سے نہیں مُطلِق کوئی خدشہ

سہارا ہے ہمیں نامِ حبیبِ ربِّ اِیزَد⚠️ کا

درودِ پاک ہم کثرت سے بھیجیں آپ پر ساجدؔ

انہی کے نام سے ہے قفلِ⚠️ کھلتا دِل کے مقصد کا