شوقِ فراواں
1

اس قدر روشن ہمارے بخت کا کوکب ہے

دِل ہمارا بزم گاہ مصطفٰؐے یارب! ہے

2

جس قدر جلدی ہو ہم پہنچیں نبیؐ کے شہر میں

گُل سب بھرنا ہے جو زاد سفر کا اب ہے

3

بفضل اللہ بایشاء⚠️ مشکلہ⚠️ عزم دِل میں

جب ہو ایمائے مشیتؐ عزم دِل میں تب ہے

4

جس کو چاہنے حق تعالیٰ نُور دے وہ بَخشِش

غیر بدل مسلماں دِل ہمارا دِل مسلم کب ہے

5

سرُور عالَم ہمارے پیشوا و دیگر

اُن کی چشم لُطف سے حالات اچھے سب ہے

6

سیدؔ⚠️ عالَم کی رحمت سے مُقدّر کھل گئے

بسکہ جو تارے روشن تھے وہ روز و شب ہے

7

غوثِ⚠️ اعظم شاہ گیلانی کا ساؔجِد فیض ہے

کھل گئے عُقدے ہمارے دِل کے سب مطلب ہے