شوقِ فراواں
1

اس سِمت باد لُطف شہرِ⚠️ دوسرا چلے

اپنا یہ کاروان محبت سدا چلے

2

سیدھی خُدا کی راہ شہرِ⚠️ دیں دکھا چلے

کتنا ہے بدنصیب جو رستہ جُدا چلے

3

طیارہ ہی پر چلنا ضروری نہیں کوئی

ممکِن ہے در پہ اُن کا تَصَوُّر اڑا چلے

4

ورو زبان درود ہے جس کے شانہ روز

اللہ کا وہ لُطف و کرم دیکھا چلے

5

زاہد اُمید حور کے رستے پر ہے رواں

ایسا کہاں جو فقَط خُدا برائے خُدا چلے

6

کر دے علادوئے⚠️ دیں کو جو گمراہلہ بلاؤلہ⚠️

فرمان ذاتِ⚠️ حق سے وہ تیر قضا چلے

7

توفیق حق رفیق ہے ساؔجِد ہزار شُکر

اہل جہاں کو نعتِ نبیؐ ہم سنا چلے