← شوقِ فراواں
یاد آتے ہیں مدینے میں اقامت کے مِرے
بارگاہ شاہؐ عالَم کی زیارت کے مِرے
کوئی پوچھتے جو شہرِ⚠️ دیں کی عِنایَت کے مِرے
ہونہیں سکتے بیاں ہم سے وہ رحمت کے مِرے
روح اَفِزا بسکہ ہیں آقاؐ کی آقاؐ کی اُلفت کے مِرے
ہیں نہایت جاں پرور اُن کی نِسبت کے مِرے
کیف سے لبریز ہوتے دِل⚠️ جو حلاوت کے مِرے
مست و مبہوت اور ہے یہ بھی حلاوت کے مِرے
چاہتے ہیں لب مِرے آقاؐ کی خِدمت کے مِرے
روح لیتی ہے ہر دم عجب حلاوت کے مِرے
اُنؐ پر یہ بیچتے⚠️ رات دِن ہم نے تحیات و سلام
طَیَّبہ میں ہم نے ہم ہوں جنت کے مِرے
آیت مُطلِق پر ساجدؔ جب پڑے دِل کی نظر
خوب دِل لیتا ہے میرا یوں عبادت کے مِرے