شوقِ فراواں
1

یاد آتے ہیں مدینے میں اقامت کے مِرے

بارگاہ شاہؐ عالَم کی زیارت کے مِرے

2

کوئی پوچھتے جو شہرِ⚠️ دیں کی عِنایَت کے مِرے

ہونہیں سکتے بیاں ہم سے وہ رحمت کے مِرے

3

روح اَفِزا بسکہ ہیں آقاؐ کی آقاؐ کی اُلفت کے مِرے

ہیں نہایت جاں پرور اُن کی نِسبت کے مِرے

4

کیف سے لبریز ہوتے دِل⚠️ جو حلاوت کے مِرے

مست و مبہوت اور ہے یہ بھی حلاوت کے مِرے

5

چاہتے ہیں لب مِرے آقاؐ کی خِدمت کے مِرے

روح لیتی ہے ہر دم عجب حلاوت کے مِرے

6

اُنؐ پر یہ بیچتے⚠️ رات دِن ہم نے تحیات و سلام

طَیَّبہ میں ہم نے ہم ہوں جنت کے مِرے

7

آیت مُطلِق پر ساؔجِد جب پڑے دِل کی نظر

خوب دِل لیتا ہے میرا یوں عبادت کے مِرے