← حرفِ نیاز
1
رنگِ جمال‘ حُسنِ چمن‘ نورِ ماہ ہو
دنیائے اُنس و جان کے تم بادشاہ ہو
2
اس سِمت بھی توجہ فسردہ ہے دل میرا
مجھ خستہ جان پر بھی کرم کی نِگاہ ہو
3
محوِ جمال آنکھ ہو‘ وقفِ نیاز دل
یوں عام مجھ پہ رحمتِ عالمؐ پناہ ہو
4
پُر نور صبح ہو مِری‘ مخمور میری شام
میری حریمِ جان تِری جلوہ گاہ ہو
5
آلامِ روزگار سے گھبرا گیا ہے جی
فریاد سیّدیؐ! تمہیں میری پناہ ہو
6
میری زُباں پہ نامِ نبیؐ رات دِن رہے
ہر سانس میری احمدِ سرائے ؟الٰہ ہو
7
مدت ہوئی ہے ساؔجِدِ غمگیں ہے منتظر
اُس کو بھی حکمِ حاضری بارگاہ ہو