شوقِ فراواں

راہِ جنابِ سیّدِ دوراں سے پھر گئے

باقی نبیؐ کے رہنے والے⚠️ انسان سے پھر گئے

ڈوبے تو نجاستوں میں تھے باطِل کے لشکری

دِل اُن کے پاک خونِ شہیداں سے پھر گئے

فاتق تھے پر غرور تھے دشمنِ حسینؓ کے

بے شرم و بے حیا تھے وہ قُرآن سے پھر گئے

بے دین تھے مُنافِق و زندیق و شب نصیب

ناپاک تھے وہ پاکیِ ایماں سے پھر گئے

وہ اشقیا تھے گر گئے گر گئے ذلّت میں

ختمِ رُسُل کے گوشۂ داماں سے پھر گئے

تڑپا تھا کربلا میں تڑپا تھا شہِ⚠️ بتول

قاتل، شہید، بیروسماماں⚠️ سے پھر گئے

ساجدؔ بیاں و دِل ہے غلام جنابِ خرؐ⚠️

سرکش تھے جو حسینؓ کے فرمان سے پھر گئے