شوقِ فراواں
1

راہِ جَنابِ سیّدِ دوراں سے پھر گئے

باقی نبیؐ کے رہنے والے⚠️ انسان سے پھر گئے

2

ڈوبے تو نجاستوں میں تھے باطِل کے لشکری

دِل اُن کے پاک خونِ شہیداں سے پھر گئے

3

فاتق تھے پر غرور تھے دُشمنِ حسینؓ کے

بے شرم و بے حیا تھے وہ قُرآن سے پھر گئے

4

بے دین تھے مُنافِق و زندیق و شب نصیب

ناپاک تھے وہ پاکیِ ایماں سے پھر گئے

5

وہ اشقیا تھے گر گئے گر گئے ذلّت میں

ختمِ رُسُل کے گوشۂ داماں سے پھر گئے

6

تڑپا تھا کربلا میں تڑپا تھا شہِ⚠️ بتول

قاتل، شہید، بیروسماماں⚠️ سے پھر گئے

7

ساؔجِد بیاں و دِل ہے غلام جَنابِ خرؐ⚠️

سرکش تھے جو حسینؓ کے فرمان سے پھر گئے