شوقِ فراواں

وہ کورِ چشم، مہرِ درَخشاں سے پھر گئے

حق نا شناس صورتِ قُرآن سے پھر گئے

دیکھے جنہوں نے گیسوئے پیچاں حضورؐ کے

وہ غمِ بھر ہر نے عِشق کے زنداں سے پھر گئے

بد بخت تھے جو تھے نہ تمام کے دامَن رسُولؐ

خالی وہ جب گئے سنچ⚠️ سلیماں سے پھر گئے

بدھو آئے جملِ جملاً خُوش⚠️ نصیب لوگ

اُن کے خِیال لعلِ بدخشاں سے پھر گئے

ہیں جو مُدام مست جمالِ نبیؐ وہ لوگ

محو اُن میں ہو کے سنجِ⚠️ مرجاں سے پھر گئے

وہ ہٹ گئے تو نبیؐ نے مُنافِق جو دِل سے تھے

لعل و گُہر کی حرم میں ایماں سے پھر گئے

ساجدؔ سزائے تار نارِ جہیم اُن کے واسطے

تاریک دِل، رحمتِ یزداں سے پھر گئے