← شوقِ فراواں
1
وہ کورِ چشم، مہرِ درَخشاں سے پھر گئے
حق نا شناس صورتِ قُرآن سے پھر گئے
2
دیکھے جنہوں نے گیسوئے پیچاں حضورؐ کے
وہ غمِ بھر ہر نے عِشق کے زنداں سے پھر گئے
3
بد بخت تھے جو تھے نہ تمام کے دامَن رسُولؐ
خالی وہ جب گئے سنچ⚠️ سلیماں سے پھر گئے
4
بدھو آئے جملِ جملاً خُوش⚠️ نصیب لوگ
اُن کے خِیال لعلِ بدخشاں سے پھر گئے
5
ہیں جو مُدام مست جمالِ نبیؐ وہ لوگ
محو اُن میں ہو کے سنجِ⚠️ مرجاں سے پھر گئے
6
وہ ہٹ گئے تو نبیؐ نے مُنافِق جو دِل سے تھے
لعل و گُہر کی حرم میں ایماں سے پھر گئے
7
ساؔجِد سزائے تار نارِ جہیم اُن کے واسطے
تاریک دِل، رحمتِ یزداں سے پھر گئے