شوقِ فراواں
1

ہر کوئی آپؐ سے ہی جام کرم لیتا ہے

کُل جہاں سیّدِ عالَم کے قدم لیتا ہے

2

راہرو آپؐ کا ثنگ⚠️ تک جائے یہ ممکِن ہی نہیں

راہرو آپؐ کا کب راہ میں دم لیتا ہے

3

اُن کے پَیکر کی بدولت یہ زمیں پاک ہوئی

روشنی اُن سے عرب اور عجم لیتا ہے

4

اُن کی درویش کی ہے مجلسِ عالَم پہ نظر

دِل کے ہوتے وہ کہاں ساغَر جم لیتا ہے

5

کوئی قیسر ہے کہ خاقان انہیؐ کا ہے گَدا

تخت و تاج آپؐ سے ہی حق کی قسم لیتا ہے

6

بحرِ اِدراک میں جب جب غوطے لگائے غواص

تب کہیں ہاتھ میں وہ گوہرِ یم لیتا ہے

7

فکرِ ساؔجِد پہ برستا ہے عطا کا بادل

ہاتھ میں جب وہ پے نعتِ قلم لیتا ہے