جانِ جہاں

تذکرہ کیسے ہو اُس کے طالعِ بیدار کا

دِل سے وارفتہ ہوا جو احمدِ مُختار ﷺ کا

گُنبدِ خضریٰ کی ہیں ٹھنڈی بہاریں دلکشا

جاں فِزا نقشہ ہے کیسے کے⚠️ در و دیوار کا

شاہراہیں کہکشاؤں کی ہیں صورتِ پہ ضِیا

حسنِ طرف ہے نبی ﷺ کے شہرِ گُلزار کا

حاضری دیتے ہیں ذر پر آپ ﷺ کے اس ملک

ذِکرِ عرش و فرش پر ہے آپ ﷺ کے دربار کا

رحمت لِلعالَمین ہے ذاتِ محبوبِ خُدا

شَرق سے تا غَرب سایہ رحمتِ سرکار ﷺ کا

جنتی تیزی سے سفرِ مِعراج کی شب ملے ہوا

ہو نہیں سکتا کوئی اندازہ اُس رفتار کا

اُن کے گیسوئے معنبر کی ہے خُوشبو دَہر میں

نُور ہر سُو ساجدؔ اُن کے ہے رُخِ⚠️ نوبار⚠️ کا