جانِ جہاں

دائم یہاں ہے کثرتِ اَنوارِ مصطفیٰ ﷺ

روشن ہیں رات دِن در و دیوارِ مصطفیٰ ﷺ

بے ساختہ اُترتی ہے دِل میں حدیثِ پاک

قد و نبات سربسر گفتارِ مصطفیٰ ﷺ

اس کو سندِ علیٰ سے ملی علمِ فکر کی

جس پر کھلا دریچۂ آسرارِ مصطفیٰ ﷺ

توفیقِ حق سے آپ ﷺ نِگہبانِ جہاں کے ہیں

اللہ کی ہے ذاتِ نگہدارِ مصطفیٰ ﷺ

اندازِ عقل و فکر کے بے بس ہوئے تمام

رفتار میں یوں تیز ہے رہوارِ مصطفیٰ ﷺ

کرتا ہے خاشعی سے دِلوں پر حکومتیں

فضلِ خُدا سے حاشیہ بردارِ مصطفیٰ ﷺ

ساجدؔ خزاں میں ٹھہرتے ہیں برگ و ثمر ضرور

رہتا ہے ہر گھڑی کھلا گُلزارِ مصطفیٰ ﷺ