← شوقِ فراواں
1
نامِ آپؐ کا عِلاج دِل زار ہو گیا
میرا نصیبِ شُکر ہے بیدار ہو گیا
2
بُلکی سی اُن کی ایک نظر کام کرگئی
اِک آن میں سقینہ⚠️ مِرا پار ہو گیا
3
اُس کو نصیب ہو گئی پرواز عرش کی
جو کیسے⚠️ نبیؐ کا گرفتار ہو گیا
4
شاہِ رُسُلؐ کی بزم میں بیٹھا جو ایک پَل
جاہل تمامِ دفتر آسرار ہو گیا
5
اِک جرمِ جس سے ساغَرِ عِرفاں نکل لیا
اللہ! دو جہاں میں وہ سَرشار ہو گیا
6
بے آب و بے گیاہ تھا یہ پیرب⚠️ کا جو دیار
آمد پہ اُن کی خُلد کا گُلزار ہو گیا
7
ساؔجِد بلالؑ نام کا اِک عام سا غلام
فیضِ نبیؐ سے قوم کا سردار ہو گیا